ماما[2]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - والدہ، ماں، اماں، ماتا۔ "ایک ہفتہ تیاری میں کٹ گیا، پاپا اور ماماں پھولے نے سماتے تھے اور سب سے زیادہ خوش تھی کسم۔"      ( ١٩٣٦ء، پریم چند، پریم چالیسی، ١٢:٢ ) ٢ - کھانا پکانے والی عورت، باورچن، گھریلو ملازمہ، خادمہ۔ "روٹی ڈالنے کے لیے ماما رکھی جاتی تھی۔"      ( ١٩٩٣ء، ساقی، کراچی، جولائی، ٤٧ )

اشتقاق

پراکرت زبان سے ماخوذ اسم 'ماں' کی تخفیف 'ماما' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور ١٨٠٢ء کو "باغ و بہار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - والدہ، ماں، اماں، ماتا۔ "ایک ہفتہ تیاری میں کٹ گیا، پاپا اور ماماں پھولے نے سماتے تھے اور سب سے زیادہ خوش تھی کسم۔"      ( ١٩٣٦ء، پریم چند، پریم چالیسی، ١٢:٢ ) ٢ - کھانا پکانے والی عورت، باورچن، گھریلو ملازمہ، خادمہ۔ "روٹی ڈالنے کے لیے ماما رکھی جاتی تھی۔"      ( ١٩٩٣ء، ساقی، کراچی، جولائی، ٤٧ )

اصل لفظ: ماں
جنس: مؤنث